Our Announcements

Not Found

Sorry, but you are looking for something that isn't here.

Archive for category General Raheel Sharif

اکتوبر میں کیا ہونے جارہا ہے

اکتوبر میں کیا ہونے جارہا ہے

 

 

اکتوبر میں کیا ہونے جارہا ہے ، اس حوالے سے تقریباً تمام معاملات فائنل ہوچکے ہیں تاہم اس کا باضابطہ اعلان مرحلہ وار ستمبر کے تیسرے ہفتے سے شروع ہوکر اکتوبر کے پہلے ہفتے تک کئے جانے کا امکان ہے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے آرمی چیف کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے ۔جس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اگلے آرمی چیف ہوں گے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بارے میں بھی تقریباً فیصلہ ہوچکا ہے ۔
چیف آف آرمی سٹاف سینارٹی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو آرمی چیف دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدہ پرماضی کی روایات کے پیش نظر، جس پر کئی سالوں سے عملدرآمد نہیں ہورہا ،اسکے مطابق پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں سینارٹی کے لحاظ سے سینئر سروسز چیف کی اس عہدہ پر تعیناتی چاہتے ہیں تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کی بجائے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے عہدہ پر تعیناتی کا عندیہ دیا گیا تاہم اس کا حتمی فیصلہ نوازشریف غیرملکی دورہ کے بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کرینگے ۔کیونکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدہ پر پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینئر سربراہ کی تعیناتی کا معاملہ بھی قابل غور ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی خواہش ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو کوئی عہدہ نہ دیا جائے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دوبھائی پاک فوج میں سرونگ جرنیل ہیں لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات واہ کینٹ کے چیئرمین جبکہ میجر جنرل احمد حیات آئی ایس آئی میں گذشتہ تقریباً پانچ سال سے اہم پوزیشنز پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کے خاندان کے دیگر پانچ افراد کے علاوہ ان کے والد اور تایا بھی جرنیل تھے جبکہ انکے دادا ، پڑدادا اور نا نا بھی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ۔ تاہم وزیر اعظم نوازشریف نے ان کو چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سٹاف بنانے کا عندیہ اس لئے دیا ہے کہ سینارٹی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ انہیں اکاموڈیٹ کرکے پاک فوج کوناراض نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف نے موجودہ سینارٹی کے لحاظ سے چوتھے اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کی بطور چیئرمین چوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تقرری کی صورت میں تیسرے نمبرپر آنیوالے لیفٹیننٹ جنرل قمرجاوید باوجوہ کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کا نام موجودہ چیف آف آرمی سٹاف اور وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم کونئے چیف آف آرمی سٹاف کیلئے بھجوائے جانیوالے تین رکنی پینل میں شامل ہوگا کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کی بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کی سفارش کیساتھ ہی لیفٹیننٹ جنرل باجوہ کا نام سینارٹی کے لحاظ سے ازخود چوتھے کی بجائے تیسرے نمبر پر اور روٹین کے تین رکنی پینل میں آجائے گا جس میں سے کسی ایک کو آرمی چیف بنانا وزیر اعظم کی صوابدید ہے ۔ اگلے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اعلان اکتوبر میں کیوں ؟ ؂ذرائع کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف چاہتے ہیں کہ وہ نئے چیف آف آرمی سٹاف کا اعلان غیر ملکی دورہ سے واپسی پر اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی عرب کی بنائی ہوئی34 اسلامی ممالک کی فوج کی سربراہی کی پیشکش پر جنرل راحیل شریف کے فیصلہ کے بعد کریں ،جس کی ذرائع کے مطابق فی الحال ڈیڈ لائن 24ستمبر ہے تاہم اس میں فریقین کی باہمی رضا مندی اور حالات و واقعات کی روشنی میں ایک یا چند ہفتوں تک توسیع کو بھی خارج ازمکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور جنرل راحیل شریف اس آفر اور مجوزہ ڈرافٹ جو سعودی حکومت کی جانب سے ان کو فراہم کیا گیا ہے اسکو سینئر کمانڈرز کے سامنے رکھ کر یا اس معاملہ کو کورکمانڈرز کانفرنس میں رکھ کر ان کی مشاورت سے ہی کوئی بھی جواب دینے کے خواہش مند ہیں اور اس حوالے سے ستمبر کے آخری ہفتے تک کور کمانڈرز کی کانفرنس بھی متوقع ہے ۔سعودی عرب آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے کیا کام لینا چاہتا ہے ؟ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب پاک فوج کے سپہ سالار چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو 34 اسلامی ممالک کی فوج کا سربراہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعے سعودی عرب کی دنیا کی اہم ،بڑی، طاقتور اور باقاعدہ پیشہ وارانہ فوج تیار کروانا چاہتا ہے جو وہ چار سال کے اندر کھڑی کریں گے اور مجوزہ معاہدہ کی رو سے وہ مزید تین سال میں اسے ٹرینڈ، آرگنائز اور پرموٹ کریں گے اور اسے باقاعدہ پیشہ وارانہ اورمضبوط سعودی فوج کے طور پر متعارف کروائیں گے ۔ سعودی عرب کی اس پیشکش کے سلسلے میں 28اگست کودو روزہ دورے پر سعودی عرب کے وزیردفاع اور ڈپٹی کراؤن پرنس محمد بن سلمان السعود خود پاکستان آئے اور مجوزہ ڈرافٹ جنرل راحیل شریف کے حوالے کرکے گئے ہیں اس کوقبول کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ابھی تک چانسز 49% اور 51%نظر آرہے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ جنرل راحیل شریف سینئر کمانڈرز کے مشورے سے ہی کریں گے ۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یہ پیشکش جنرل راحیل شریف کو دورہ سعودی عرب کے دوران کی اور ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 34اسلامی ممالک کی فوج کی سربراہی کے حوالے سے مجوزہ ڈرافٹ کی تیاری کے بارے میں قیاس کیا جارہا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کی عسکری قیادت سے پیشگی مشاورت بھی کی گئی ہے۔ سعودی عرب جنرل راحیل شریف کوکیا دے گا ؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کا سب سے بڑا قومی اعزاز کراؤن نیشنلٹی کے ساتھ جنرل راحیل شریف کو پیش کرینگے ۔

جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے چین کا کیا کردار؟ باخبر حلقو ں کا کہنا ہے کہ چین نے نواز حکومت سے جنر ل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی درخواست کی جبکہ دوسری جانب نواز حکومت بھی جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی جنرل راحیل شریف کوقائل کرنے کی کوشش کی اور چین نے بھی بھرپور کوشش کی، تاہم پاکستانی حکومتی شخصیات یا چین آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع پر آمادہ نہ کرسکے ۔ حکومت کیوں جنرل راحیل شریف کو مدت ملازمت میں توسیع دینا چاہتی ہے ؟ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے جنرل راحیل شریف کومدت ملازمت مین توسیع دینے کے پیچھے بہت سارے عوامل کارفرما ہیں ، ایک تو حکومت جنرل راحیل شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ا ن کی ساکھ کو متاثر کرنے کیلئے انکی توسیع چاہتی ہے جبکہ دوسری جانب جنرل راحیل شریف کی ایک سال کی توسیع کی صورت میں موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھی یکم اکتوبر2018 ء میں ریٹائرہونے کے بجائے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کے لئے سینارٹی کے لحاظ سے موزوں امیدوار ہوسکتے ہیں۔

جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع پر عسکری حلقوں کا ردعمل کیا ؟ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری حلقے جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کو سپورٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے نہ صرف سینئر موسٹ اورانتہائی پیشہ وارانہ جرنیلوں کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ سنبھالے بغیر ہی ریٹائرہونا پڑے گا بلکہ بعض عسکری حلقوں کا یہ خیال ہے کہ اس سے فوج کے پیشہ وارانہ امور اور ساکھ پر برا اثر پڑنے کے ساتھ ساتھ نوازشریف کا عملاً فوج کے ادارے میں اثر رسوخ بھی بڑھ جانے کے قوی امکانات ہیں ۔ نوازحکومت لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باوجوہ کو ہی کیوں چیف آف آرمی سٹاف بنانا چاہتی ہے ؟ باخبر ذرائع کے مطابق نواز حکومت لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس لئے چیف آف آرمی سٹاف بنانا چاہتی ہے کیونکہ وہ غیر سیاسی عزائم کے حامل افسر کے طور پرفوجی حلقوں میں مشہور ہیں ، جنرل قمر جاوید باجوہ انتہائی فرض شناس اور پیشہ فوجی افسر ہیں ۔ اپنے غیر سیاسی عزائم کا پرچار نہ صرف اپنے کولیگ کے ساتھ بلکہ وہ کور کمانڈز کانفرنسوں میں بھی کھل کر کرتے رہے ہیں کہ فوج کو صرف اور صرف اپنے پیشہ وارانہ امور پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور وہ ہمیشہ فوج کی سیاسی وحکومتی مداخلت کے مخالف رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا نام ان کور کمانڈرز میں سرفہرست ہے جو سال 2014 ء کے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں کے دوران کسی فوجی مداخلت یا ٹیک اوور کی سب سے زیادہ مخالفت کی تھی ۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ دھرنوں کے وقت 2014ء میں کور کمانڈر راولپنڈی تھے ۔ وزیر اعظم کی اکتوبرمیں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اعلان کی وجہ کیا ؟ وزیر اعظم نواز شریف 16ستمبر کوپاکستان سے امریکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیلئے روانہ ہونگے اور انکے برطانیہ میں ایک رات قیام کے علاوہ ڈنمارک میں بھی رکنے کا بھی امکان ہے جس کے بعد انکی18ستمبر کو نیویارک روانگی کا امکان ہے،اور21ستمبر کووزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

دورہ امریکہ کے علاوہ وزیراعظم کا سویڈن کا دو روزہ دورہ بھی متوقع ہے جس سے واپسی پر ان کے لندن میں قیا م کے دوران 29ستمبر کو ڈاکٹرز کوچیک اپ کروانے کا بھی شیڈول ہے ، ٹیسٹ رپورٹس اور طبی معائنے کی روشنی میں اور ڈاکٹرز کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعظم کی پاکستان آمد اکتوبر کے پہلے ہفتے متوقع ہے اور اس وقت تک سمری ان کی خواہش کے مطابق ان کے آفس پہنچ چکی ہوگی۔ جس پر باضابطہ دستخط کرکے وہ نئے آرمی چیف اور نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اعلان کرینگے جبکہ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف کے سعودی پیشکش پر فیصلہ سامنے آنے کے بعد وہ نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اعلان و نوٹیفکیشن کریں اور وزیر اعظم نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا نوٹیفکیشن ایک ہی روز میں اکٹھا کریں گے ۔ جنرل راحیل شریف پر کیا دباؤ ؟ جنرل راحیل شریف آج کل سخت دباؤ میں ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو اورانہوں نے قوم سے جو وعدے کئے ہیں اور جن باتوں کا وہ بار بار اعادہ اور عزم دہراچکے ہیں وہ مختصر وقت میں اس پرپاک فوج اور قوم کے سامنے سرخرو ہوسکیں ۔ وہ کون سے دو آرمی چیف تھے جنہوں نے عوام اور فوج کے دباؤ کے باوجود مارشل لاء سے انکار کردیا ؟ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی (ریٹائرڈ)اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے پاس کئی ایسے مواقع آئے کہ عوام اور فوج کی جانب سے انکو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو گرانے یا ٹیک اوور کرنے کیلئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تاہم دونوں جرنیلوں نے عوامی اور بعض فوجی حلقوں کے دباؤ اور خواہشات کے برعکس اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی بجاآوری اور اٹھائے گئے حلف کی پاسداری کو ہی مقدم سمجھا ۔ ایک موقع ایسا بھی آیا تھا کہ جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سامنے عزیز ہم وطنو کی تقریر کا ڈرافٹ بھی رکھا گیا جسے انہوں نے سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے ہمیں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انتہائی فرض شناسی اور پوری ایمانداری ، دیانتداری اور محنت و لگن کیساتھ ادا کرنے پر تمام تر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے ، اسی طرح موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف پر بھی 2014ء کے دھرنوں کے دوران اوردیگر کئی مواقع آئے تاہم انہوں نے بھی ہمیشہ اپنی تمام تر توجہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض پر رکھنے کوہی مقدم سمجھا اور بطور پروفیشنل سولجر مقررہ وقت پرریٹائرمنٹ فیصلہ کیا ۔

No Comments

Where Are We? by S.M.K.Durrani

 

 

 

 

 

By

 

S.M.K.DURRANI

 

 

 

Indian spy admitting involvement in Balochistan insurgency

What we know so far about Indian Terrorism Mastermind Gulbushan Jadhav in Balochistan:

He is the contact man for Anil Kumar Gupta, the joint secretary of RAW, and his other operatives in Pakistan

His was tasked to disrupt development of CPEC, with Gwadar port as a special target

Jadhav is still a serving officer in the Indian Navy and will be due for retirement in 2022

He started carrying out intelligence based operations in 2002 and in 2003 established a small business in Chabahar, Iran

Jadhav directed various activities in Karachi and Balochistan at the behest of RAW

He was involved in activities of ‘anti-national or terrorist nature’

Seems like it always takes a tragedy before an operation is started. Whatever happened with karachi operation?

What happened to interior Sindh operation?

And now Punjab. These are protocols and passive steps.

All elites and influential always manages to flee the country.

This will keep on happening until or unless root cause is addressed.

Killing/arresting militants will not solve anything.

There is no shortage of recruits.

Now they’re handling this situation in the proper way.

These terrorists and religious parties need to be given a clear message that they got no place in new Pakistan.

Decisions are been taken by military leadership and Leading is by NS?

Civil government proved themselves a failure in all the departments.

The only solution given by civil leadership to every problem is Army…

Just take example of couple a days ago…

Islamabad controlled by Army.,

Lahore controlled by Army.

Where do u see NS leading the nation?

come on man…

PML(N),

Sick or Alive is

EQUALY

A,

Disaster.

This Govt has broken all records of corruption, nepotism, selfishness, borrowing loans, sorry state of state institutions, falling standards of education, law and order situation and many many more things where this Govt is a complete failure.

PPP last Govt had all kind of evils in it and they did not leave any chance to destroy our Great country but when i compare both Govt I realized one thing PPP did as we know about them but PML-N did exactly opposite to what they preach.

They have lost their reputation in the eyes of this corrupt nation and it will NOT reflect in the next election.

TILL PUBLIC HANGING TAKES PLACE

TRIAL

BY

POLITICIAN & JUDGES

Only manufacturer of a machine knows how to fix it best….

I’ll wait for results first before raising any hope for peace.

NS has been doing only reactive leadership, he is not proactive. They should have started the operation in Punjab long back. But just to save their own corruption they delayed it till Army announced the operation.

NS addresses are the failed attempt to cover up, now they are giving a second try to make people believe that ARMY and Government are on same page.

What a MASS mess!

Meetings after meetings and when they get comfortable enemy takes advantage.

Real criminals is our corrupt government they can do anything to destabilize Pakistan .

As a nation majority of us are reactive, not proactive, in dealing with the challenges.

Rest are mentally IMPOTENT ,

As fed & Nurtured

ON HARAAM

, , ,

No Comments

IS THIS A NEW DAWN FOR PAKISTAN OR YET ANOTHER MIRAGE?

IS THIS A NEW DAWN FOR PAKISTAN OR YET ANOTHER MIRAGE?

By

 

 Saeed Malik

 

 

 

Gen R.Shariff
 
 
 
 
 
 
 
 
 
Asif Zardari’s recent round of yelping is a sure sign of pain issuing from the realization that the cycle of immunity from prosecution for multifarious acts in an unending saga of unchecked criminality might finally be coming to an end.
The possibility that the bonding partnership in crime and immunity between  the political parties, established by the unwritten lines of the “Charter of Democracy” is finally about to be dismantled, andthat mega corruption may at last find itself a place among the lowest depths of ultimate dishonour in our society, as also being recognized as the ultimate  existential threat to us as a country.
 

And if, as is rumoured, Gen Raheel is also holding the corrupt generals  to task, Pakistan will surely get a second lease of life. And if this happens it will be due directly to honest and dedicated leadership, which Pakistan has not been acquainted with, from the time that  Jinnah was lowered into the ground.

​ 

It is all a matter of throwing the book at 400 people to save 200 million. Thus there should be no fear, and all the incentive, in doing so.

 

As long as the people of Pakistan FEEL that an era of justice for them, and accountability for the high and mighty who have done little but to rob them of hope and their dreams is about to dawn, they will back Gen Raheel and the army in all that it is doing. And the army should draw great confidence from the fact that its approval rating among the people already stands at over 80%.

 

The danger in all this is that as more and more of the filth of the current political leadership is revealed, the more strident will the calls for the imposition of martial law. These calls have to be resisted. Falling into the trap of martial law will cost the army its professionalism and its credibility, as has happened often in the past.

And while resisting such calls, it should be kept in mind that immunity to PML should under no circumstances be a given. All of them are birds of a feather, and they are brothers in crime under the terms of the Charter of Democracy. It is only the willfully blind who cannot see this even now.As crime after crime is being uncovered and exposed by the Rangers and the agencies, is there even a whimper of disapproval, much less outraged condemnation of such crimes coming from the likes of such stalwart democrats as Mulla Fazal, Asfandyar Wali, Achakzai, Aitzaz Ahsan, Reza Rabbani, Ishaq Dar, Khawaja Asif, Khawaja Saad Rafiq, and the great Sharif brothers? Are they all not acting as if they are positively miffed at the army for attempting to retrieve the fortunes of the country from their unholy claws?

To effectively charge the corrupt so that they pay back their dues to society, and to ensure their reservation in the clink,the law will have to be changed, whereby the mega thieves should be considered guilty unless they can prove themselves innocent. All their assets, [minus their proven inherited wealth] need being added up; the authenticity of their declared earnings should be examined;  and  a quantification [in monetary terms] of their living expenses should be made. Their assets and living expenses should then be weighed against authentic, proven income, and these should be weighed against the taxes they have given. And if there is an imbalance between their assets and proven income, or between their assets and the taxes they have paid, they should be held to be guilty, and jailed till they have returned the thieved amount plus back taxes, plus an additional fine in proportion to the scale of their theft. And their terms in jail should not be eased by conferring upon them a class of confinement reserved for the common criminals which they undoubtedly are.

And there is nothing new nor “undemocratic” about this. The IRS in the U.S moves more or less precisely this way.

It is the call of the hour to save the country from the ravages of its

so called​

“democrats” who, with few exceptions, have gutted their motherland. And if Gen Raheel starts with the generals, he will have the people raving for him as he moves ahead.

By now, it is quite clear, that the army has tons of evidence of theft, of robbery, of extortion,of murder, of prostitutes [some now pregnant] being used to launder billions of rupees, of qabza and auction of thousands of acres of land, of government auctioning off positions in officialdom, and of outright treachery [witness the memogate affair and related issues.]

Has there ever been such a coordinated effort at eroding the very foundations of the state by the people who have been “voted” in to safeguard and strengthen these very foundations, and to provide good governance and justice to its people??

Armed with all this evidence, the following needs to be done, to recover the country from the fatal gift of Musharraf’s NRO:

– The generals need to meet to assess the sheer gravity of the situation as regards national security, brought about directly by the ravages of the very people sworn to serve the country and its people.

-To formally resolve to put this situation right, through direct intervention, but not by imposition of military rule, and as far as is possible to avoid recourse to this extreme measure.

-Every general should sign this resolution so that each is personally vested in it, and also so that should they veer from it and allow themselves to be swayed away for considerations of personal power, they could one day be held accountable.

-Make a reference to the Supreme Court for an in- camera hearing, with a plea to find the government, at the very least, criminally negligent in the discharge of its duties, so that it is dismissed, and an interim set up  takes its place, and fresh elections are announced.

 

The following ordinances need to be enacted immediately upon investiture of the interim government:

  • ​To put the country under emergency rule with the army brought in, in aid of civil power till new elections are held, and the new parliament is firmly settled.
  • ​No one charged for corruption be allowed to stand for elections unless first cleared of such charges.
  • All the people so charged, be considered guilty unless the taxes they have paid are in proportion of the wealth they have garnered; and the assets they hold are in proportion to the income they can justify…..such people be tried by military courts, where it is a question of comparatively simple tabulation of wealth accumulated against taxes paid, so that the usual objections of competence or otherwise of military courts is not brought into question.
  • ​Police and civil servants are granted statutory guarantees such that never again is there a danger of their status falling to that of becoming personal servants of those in government. And having done this, to ensure that the best of them are then given the most important assignments. If need be the finest of such officers who have been wasted out of service in the recent past, should be recalled to service, to heal the decimation which these services have suffered at the hands of the “royalty” which has passed itself off as elected democrats. It must be realized that the best of our civil servants and police officers are in no way inferior to our better army officers. And but for the protection that the institution affords the military officers, they themselves  would have fared no better than their brothers in the civil. Such officers properly placed and supported by the army will imporve governance and make martial law redundant.
  • Immediately after fresh elections, the 18th amendment, this monstrous piece of legislation thought out by Raza Rabbani to imperil the unity of the country, should be sent to the trash heap.
 
The bottom line in our recovery from terminal illness as a society and a country lies in the hope that the arch criminals at the helm of the state be dealt with by the same fearlessness, with which they have prostituted their powers in the destruction of all that is sacred and valuable about their country.
 
Ultimately it is a question of bringing a few hundred people to the book so that the future of 200 million is redeemed. The army has promised this four times earlier and failed. It failed because the promise on the back of which it came to power each time, was never meant to be kept. If this time finally the intent is different, so will be the results. And if this is so, this batch of generals will have earned the undying gratitude of millions today, and many more who are to follow. All they need to ask themselves is whether giving their last full measure of devotion to their country will be worth the toil or not.
 
P.S.
At the first opportune moment the government should be forced to disclose all the secret clauses of the LPG deal with Qatar. But before doing this, they should all be put on ECL. I have a suspicion that when such a disclosure is forced on the government, there will be a mad rush for the exits.

 

, , ,

No Comments


Skip to toolbar